تعلیم و تربیت

بِسْمِ اللّہِ الرّحمٰنِ الرّحیمِ

و صلی اللّہ علیک یا ولی العصر علیہ السلام ادرکنا

امیرالمومنین حضرت علی (ع) کا ارشاد گرامی ہے

مَنْ کَلَّفَ بِالاَدَبِ قَلَّتْ مَسَاوِیہِ وَ مَنْ قَلَّ اَدَبُہُ کَثُرَتْ مَسَاوِیہِ

جسے ٹھیک ٹھیک تربیت دی جائے گی وہ کم لڑکھڑائے گا اور جس کی تربیت میں کسر رہ جائے گی وہ زیادہ ٹھوکریں کھائےگا

ہمارے جگر گوشوں کے چال چلن میں لڑکھڑاہٹ اور بے راہ روی دینی امور سے لا پرواہی، والدین کا عدم احترام سب کچھ صرف اور صرف امورِ تربیت سے غفلت کا نتیجہ ہیں۔ اگر ہم مولائے کائنات علیہ السلام کے فرمان پر نظر ڈالیں تو حقیقت اور زیادہ واضح و روشن ہو جائے گی۔

فطرت انسانی کے جذبات میں سب سے زیادہ پر جوش، دیرپا اور نا قابل شکست جذبہ اولاد کی محبت ہے۔ اسی فطری لگاؤ اور طبعی جذبے کی بناء پر والدین خلوص اور بے لوثی کا وہ کردار پیش کرتے ہیںجس کی مثال دوسرے روابط میں نظر آتی۔ وہ اولاد کی تعلیم و تربیت میں اپنا وقت، اپنی کاوش اور اپنی دولت بے دریغ صرف کرتے ہیں مگر بعض اوقات غلط اور نامکمل تربیت کی وجہ سے اولاد بے راہ ہو جاتی ہے۔ شروع شروع میں لاڈ اور پیار میں اس کی بری حرکتوں کی طرف توجہ نہیں دی جاتی اور جب بری عادتیں راسخ ہو جاتی ہیں تو پھر دریا کا دھارا موڑنے کی سعی لا حاصل کی جاتی ہے۔

اس لیے ضرورت ہے کہ ابتداء ہی میں ایسی تعلیم و تربیت دی جائے جو ایک صحت مند ذہنیت کی تشکیل کرے اور غلط انداز فکر سے آشناہی نہ ہونے دے کیونکہ ابتداء میں بچے کے ذہن میں جو نقش بٹھا دیا جاتا ہے وہ ہمیشہ کیلئے بیٹھ جاتا ہے ۔ تعلیم و تربیت کے موقع پر صرف دنیاوی ترقی پر نظر نہیں ہونی چاہیئے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ دینی و اخلاقی زندگی کے سنوارنے کا سامان کرنا چاہیئے اور شروع میں دین و مذہب کی اہمیت، خدا کی عظمت و غرض خلقت کو ذہن نشین کرانا چاہئے۔