صدقہ برائے سلامتی امام زمان علیہ السلام

خَیْرُ مَالِ الْحَرْئِ وَ ذَخٰائِرِہ صَدَقَة

آدمی کی بہترین جمع پونجی صدقہ ہے۔ (امام رضاعلیہ السلام، عیون الاخبار، ج ٢، ص ٦)

خدا کی راہ میں بخشش کو عام طور پر صدقہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور اس کو اسلام میں بہت اہمیت دی گئی ہے۔ یوں تو ہر نیک کام صدقہ ہے مثلاً راستے سے پتھر ہٹا دینا، مؤمن کو دیکھ کر مسکرا دینا، مؤمن و مسلم کی کسی طرح سے بھی حاجت برآری کرنا مگر عرف عام میں اﷲ کی رضا کے لیے اپنے مال میں سے ضرورت مندوں کی اعانت کرنا صدقہ کہلاتا ہے۔

صدقہ کی فضیلت میں بے شمار احادیث وارد ہوئی ہیں۔

 رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم   فرماتے ہیں: خدا کی راہ میں در پردہ بخشش کرنا خدا کے غصے کے شعلے کو ٹھنڈا کر دیتا ہے۔

        امام باقر علیہ السلام  فرماتے ہیں: خدا کی راہ میں نیکی اور احسان فقر کو مٹاتا ہے۔ عمر میں اضافہ کرتا ہے۔ ناگوار موت کی ستر قسموں کو ٹال دیتا ہے۔

        اسلام کے نقطۂ نگاہ سے صدقہ جان اور مال کی حفاظت کے لیے مؤثر ہے اور سب سے بڑھ کر اﷲ تعالیٰ کی رحمت کے حصول میں بہت اثر رکھتا ہے۔ چنانچہ اپنی اور اپنے عزیزوں اور پیاروں کی جان

کی حفاظت کے لیے ہر موقع پر صدقہ دیتے رہنا چاہیئے۔

جب بات عزیزوں کی ہو تو اس مقدس ترین وجود کی سلامتی کے لیے صدقہ کا جواز بدرجہ اتم موجود ہے جو مرکز کون و مکان ہے یعنی امام زمان علیہ السلام کی ذات بابرکات جن سے زیادہ کوئی ہستی

عزیز تر اور گرامی تر نہیں ہے اور نہ ہونی چاہیئے بلکہ جسے اپنے نفس سے بھی زیادہ عزیز اور محبوب ہونا چاہیئے کیونکہ جناب رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  سے روایت ہے کہ تم میں سے کوئی شخص صاحب ایمان نہیں جب تک میں اور میرے اہل بیت  اس کے نزدیک اس کی جان، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جائیں۔

یقینا موجودہ دور میں امام زمان علیہ السلام سے بڑھ کر کون اس کا مصداق ہو سکتا ہے۔ تمام ظاہری و باطنی نعمات یہاں تک ہمارا وجود ہی اس ذات مقدس کا تصدق ہیں چنانچہ سب سے بڑھ کر لازم ہے آپ کی صحت و عافیت اور بقاء و سلامتی کے لیے صدقہ دیں۔ یہ صدقہ جب اور جتنا ممکن ہو دیتے رہنا چاہیئے اور اپنے عزیزوں کے لیے صدقہ نکالنے سے پہلے اپنے مولا و امام  کے لیے صدقہ نکالنا چاہیئے اور ساتھ ساتھ آپ کے وجود مقدس کی سلامتی کے لیے دعا بھی کرتے رہنا چاہیئے۔

Leave a comment